جمیل کوئی نامی
گرامی معما ر تو نہیں تھا، لیکن اسکے ہاتھوں عمارات کی تعمیر کا ہنر دیکھ کر لگتا
تھا جیسے یہ اسکا جدی پشتی کام تھا، اس حوالے
سے اس علاقے میں اسکا کوئی مقابلہ نہیں تھا ۔ جمیل جہاں رہتا تھا وہ ایک متوسط
گھرانوں کا علاقہ تھا اور جمیل علاقے سے
باہر کام کرنے کم ہی جاتا تھا لیکن علاقے میں اسکو کام مل جایا کرتا تھا، لیکن
اسکے باوجود اس کو حاصل ہونے والی اجرت سے اسکے گھر کی بنیادی
ضروریات
پوری نہیں ہو پاتی تھیں۔ اسکی ماشا
ءاللہ چار بیٹیاں تھیں اور بیٹا نہیں تھا۔
اسکا گھر بہت
چھوٹا تھا جسکی چھت بارشوں کی وجہ سے کافی خراب ہو گئی تھی لیکن اسکی مرمت کے لئے اسکے پاس رقم نہ تھی
اسلئے ، دوسروں کے گھر تعمیر کرنے والے کو اپنا گھر ادھار لے کر مرمت کروانا پڑا
۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسکی بیٹیاں بھی جوان
ہو رہی تھیں اور وہ تعلیم بھی صرف بڑی دو بیٹیوں کو ہی دلا پایا تھا جن میں سے ایک
شادی کے قابل ہو گئی تھی۔ اب جمیل کو بیٹی کی شادی اور اسکے جہیز کی فکر ستانے لگی۔ گھر ویسے ہی
بڑی مشکل سے چل رہا تھا، جہیز کا انتظام کہاں سے کرتا ، ادھار بھی کہاں سے لیتا کیونکہ پہلے ہی گھر کی مرمت کے لئے ادھار لے
رکھا تھا وہ ابھی واجب الادا تھا ۔ سب پڑوس والے اور محلے دار جانتے تھے کہ وہ کن
مسائل کا شکار ہے اور کس پریشانی میں مبتلا ہے لیکن کسی نے اسکی ڈھارس نہیں
بندھائی اور نہ ہی کوئی مالی مدد کی۔آخرایک
دن انہی سوچوں میں گم ایک رات دل کا دورہ پڑنے سے اسکا فانی جسم تمام تر پریشانیوں
سے نجات پا گیا، ڈاکٹر نےدل کے دورے کی
وجہ کوئی پریشانی یا ذہنی دباؤ بتایا تھا ۔
اسکی وفات کے کچھ عرصہ بعد، سب محلے داروں نے مل کر اسکی سب سے بڑی بیٹی کی شادی بڑے اہتمام کے ساتھ کی ۔اسکی بیوہ نے کپڑے سینے شروع کر دیئے ، بڑی بیٹی نےاپنے ہی گھر میں پڑھانا
شروع کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اپنی چھوٹی بہنوں کو بھی پڑھانا شروع کر دیا، محلے کے کچھ مخیر حضرات نے اسکے گھر کے راشن کی ذمہ داری لے لی، اسکے ذمے جو واجب الادا قرض تھا وہ بھی ادا کر دیا گیا، الغرض جن پریشانیوں ، سوچوں اور ذمہ داریوںمیں غلطاں رہنے کی وجہ سے وہ اس دنیا سے رخصت ہوا تھا، وہ اسکی وفات کے بعد کافی بہتر انداز سے سبکدوش ہوئیں۔
1 ہمارے معاشرے میں ، چند اچھے لوگوں کے علاوہ ،اکثریت یا تو اپنے ہمسائیوں کے حالات سے واقف نہیں ہے،
یا اگر واقف ہے تو کسی قسم کی مدد کرنے سے گریز کرتی ہے۔ کچھ ایسے لوگ بھی بکثرت موجود
ہیں جو مدد کرنے کے بعد اسکا اتنا ڈھندورا پیٹتے ہیں کہ مدد لینے والا شرم سے منہ
چھپاتا پھرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں سفید پوش لوگ آج بھی اپنی پریشانی
یا تکلیف کا بے تکلفی سے ہر ایک سے ذکر نہیں کرتے۔
ہوئی مدت کہ
غالب مر گیا، پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پہ
کہنا،کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

