Showing posts with label گدا گری، بھیک مانگنا، نو مولود کا بھیک مانگنا، خانہ بدوش، نشئی باپ، معصوم بچہ. Show all posts
Showing posts with label گدا گری، بھیک مانگنا، نو مولود کا بھیک مانگنا، خانہ بدوش، نشئی باپ، معصوم بچہ. Show all posts

Tuesday, 27 March 2018

عام سا پتھر نہیں..... ۔نیلم ہوں میں!!!



! ٹھوکروں کے نیل ہیں  مُجھ پر، سو       اب
!!! عام سا پتھر نہیں ۔۔۔۔۔نیلم ہوں میں

پھتو کا اصلی نام فاطمہ تھا لیکن اُسکے گھر اور سُسرال والے اُسے پھتو کے نام سے پُکارتے تھے ۔ خانہ بدوش گھرانے سے تعلق ہونے کے باوجُود اُس کے اندر فطری سگھڑ پن تھا  اور  اُسے اپنے میکے اور سُسرال کا گدا گری کا پیشہ بالکُل اچھا نہ لگتا تھا، لیکن قسمت اُسکے مزاج سے بالکل اُلٹ تھی کہ اُسکا باپ بھیک مانگتا اور اُسکا نشئی بھائی گدا گری کے علاوہ چھوٹی موٹی چوریاں کرتا تھا ۔ گھر میں ایسا ماحول ہونے کی وجہ سے اُسکے والدین کو پھتو کے رشتے کے لئے اسکے کزن کا نشہ کرنا اورگدا گری کرنا با لکل برا نہ لگا ، لیکن وہ کر بھی کیا سکتی تھی کیونکہ اُسکی خانہ بدوش برادری میں نشہ کرنا، چوری کرنا، جُوا کھیلنا، بھیک مانگنے کے  لئےنو مو لُو دبچے کو کرائے پر دینا کوئی بُرا کام نہ سمجھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے اپنے پہلے بچے کی پیدائش کے بعد سے پھتو کی ساری توجّہ اپنے بیٹے کاشی کی طرف مرکُوز ہو گئی اور اُسے ہر وقت اپنے ساتھ ساتھ ہی رکھتی حتیٰ کہ لوگوں کے گھر کام کرنے کے لئے جاتے وقت بھی اپنے ساتھ لے کر جاتی تھی کہ کہیں اُسکا نشئی خاوند اسکوگداگری کے لئے کرائےپر نہ دے دے، کیونکہ پھتو کا خاوند اکثر نشے میں دُھت اُس سے جھگڑا کرتا   “جے توں نیئں منگنی خیرات تے نہ منگ پر مُنڈے نوں تے کم تے گھل” ۔ وہ کاشی کو، جو کہ ابھی صرف 6 ماہ کا تھا، کرائے پر دینے کی بات کرتے ہوئے  کہتا   “بیداں پِچھلے دیہاڑے فیر آئی سی مُنڈے دا پُچھ رہی سی، چنگا بھلا300 روپیہ دیہاڑی دا دیون دا کارا کردی اے 
”۔ لیکن پھتو ہر بار یہی کہتی کہ “میرا کاشی خیرات نئیں منگے گا۔ ربّ نے ہتھ پیر دِتے ہوئے نیں، اپنے 
ہڈاں پیراں نال کر کے کھاوے گا” ۔




سردیوں کی ایک صبح کاشی بخار کی وجہ سے تپ رہا تھا۔ پھتّو نے اُسے اپنی بیمار ساس کے حوالے کر کے  کام پر جانا مناسب سمجھا ۔ موقع غنیمت جان کر اُسکے نشئی خاوند نے، جانتے ہوئے کہ کاشی بخار میں مبتلا ہے اور بُری طرح رو رہا ہے، اُسے لے جا کر بیداں کی جھولی میں اس وعدے کے ساتھ ڈال دیا کہ وہ دوپہر تک اُسے اُسکی “دیہاڑی” کے ساتھ واپس کر جائےگی۔“پر پہلاں اینہوں دُدھ شُدھ دے کے چُپ کرا لئیں”، اُس نے کاشی کو اُسکے حوالے کرتے ہُو ئے کہا، لیکن بیداں، جسکی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی، نے مّکارانہ انداز میں جواب دیتے ہویے کہا “ایہہ جِنّا رووے گا اونّی دیہاڑی چنگی لگّے گی، جھٹ کھلو کے دے دیاں گی” ۔ یہ کہہ کر بیداں اُسے لے کر شہر میں ایک مصروف چوراہے پر بیٹھ کر بیچارے کاشی کے نام پر صدا کرنے لگی۔ بُھوک اور پیاس کی شّدت سے بُری طرح بلکتے ہوئے کاشی کو دیکھ کر ہر راہ گیر کا دل پسیج جاتا اور وہ کچھ نہ کچھ اسکی جھولی میں ڈال دیتا ، جو پھتّو جلدی سے اپنی جیب میں ڈال کر جھولی پھِر خالی کر لیتی۔ اِس دوران اُس نے کاشی کو دُودھ کی ایک بُو ند بھی نہ دی  ۔ شدید ٹھنڈ میں قریب ایک گھنٹہ کاشی بُری طرح روتا رہا اور  آخر کار چُپ کر گیا اور آنکھیں مُوند لیں۔ شاید تھک گیا تھا بیچارہ۔



شام ڈھلنے سے کافی پہلے بیداں کاشی کو لے کر اُسکے گھر کی طرف روانہ ہو گئی ۔ کاشی کو اُسکے نشئی باپ کے سپُرد کر کے اور  300 روپے اُسکی ہتھیلی رکھتے ہوئے کہا  “ لے پھڑ، اینی جِنّی گل سی، پھتّو نوں کہویں پئی ایہہ بھُکا ای سو گیا اے  اینہوں دُدھ شُدھ پیا دیوے ۔۔۔ میں ہُن کل آواں گی، پھتّو دے جاون توں بعد”۔
کاشی کو چارپائی پر لِٹاتے ہوئے، اُسکے نشئی باپ نے نعرہ لگایا “ آ گیا میرا کماؤ پُتّر۔۔۔۔” اور یہ کہتا ہُوا جھونپڑی سے باہر نِکل گیا۔۔۔۔

ننھّے کاشی پر وہ مشقت کافی گِراں گُزری، جِس نے اُسے  ابدی اور سکون کی نیند سُلا دیا۔