Showing posts with label حلال اور حرام کا فرق، مذہبی خیالات،. Show all posts
Showing posts with label حلال اور حرام کا فرق، مذہبی خیالات،. Show all posts

Saturday, 27 January 2018

"ھٰذا مِن فَضلِ رَبّیِ"

"ھٰذا مِن فَضلِ رَبّیِ"

“بس  جی، آجکل لوگوں کو مرنا ویسے ہی بھوُلا ہوا ہے۔ حلال حرام کا فرق بالکل ختم ہو چکا ہے”۔
شومئی قسمت کہ آج میرا سامنا میرے ہمسائے حاجی صاحب سے ہو گیا ، جو معاشرے کی تباہی و بربادی کا ذِمّہ دار نَاجَائز اور غیر قانونی طریقہ کار سے پیسہ کمانے والوں کو ٹھہرا رہے تھے، اور میں چُپ چَاپ سر جھکائے اُنکا وعظ سُن رہا تھا۔




حاجی صاحب چند ماہ پہلے ضلع کچہری سے بطور  عدالتی ریڈر ریٹائر ہوئے تھے۔ ویسےحاجی صاحب زیادہ مذہبی خیالات کے  دلدادہ نہ تھے لیکن دورانِ ملازمت حاجی صاحب جس جج صاحب کے ساتھ تعینات تھے، اُس نے داڑھی رکھی ہوئی تھی اور حاجی صاحب نے بھی اپنے جج صاحب کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے داڑھی رکھ لی، شاید یہی وجہ تھی کہ وہ حاجی صاحب کو اپنا ہم خیال بھی سمجھتے تھے۔حاجی صاحب، جو اپنے گھر کے اکلوتے کَمانے والے تھے، نے اِسی ملازمت میں رہ کراپنے پانچوں بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی ۔ آج وہ اپنے بیٹے کوائر پورٹ سے لے کرآ رہے تھے ،جو امریکہ سے طِب کی اعلیٰ تعلیم مکمل کر کے آیا تھا ۔


میں سوچ رہا تھا کہ شاید اِنکی کمائی میں سلیم صاحب  کی کمائی سے زیادہ برکت تھی وگرنہ سلیم صاحب  بھی عدالت کے ریڈر ہیں اور حاجی صاحب سے پہلے کے ملازم ہیں، لیکن بمشکل ہی تین بچوں کو تعلیم دلوا پائے، وہ بھی ادھوری رہ گئی کیونکہ کرائے کے گھر میں رہتے ہوئے پوسٹ گریجویٹ پروفیشنل ڈگری کے لئے اس نوکری کی تنخواہ بُہت کم تھی۔بیچارے اپنے دَقیا نُو سی خیالات کی وجہ سے کِسی بھی جج کے ساتھ ایک سال سے زیادہ نہ ٹِک پاتے کیونکہ وہ جج صاحب کے چائے پانی کے اخراجات اپنی جیب سے پورے کرنے کی سکت نہ رکھتے تھے۔نہ جانے کیوں، یوں لگ رہا تھا کہ حاجی صاحب باتوں ہی باتوں میں حلال اور حرام کا فرق بیان کرتے ہوئے، اپنے گزرے ہوئے ماضی کاجواز دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
میں اِنہی سوچوں میں گُم مبہوُت کھڑا حاجی صاحب کی دینی و اخلاقیات پر مبنی باتیں سُنتا رہا ، جو مجھے پنجگانہ نماز پڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے گھر کے اندرداخل ہو گئے جِس کے باہر انتہائی خوبصُورت ٹائلز پر منقش تھا ۔
"ھٰذا مِن فَضلِ رَبّیِ"